تعمیرات
اس کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے!
(۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔احاطہ دار قدیم (۲)۔۔۔۔۔۔۔۔۔احاطہ دارجدید
احاطہ دار قدیم :
وہ جگہ ہے جہاں جامعہ کا باقاعدہ سنگ بنیاد الحاج حافظ محمد حسین صاحبؒ ( ۱۲۸۶ھ/ ۱۳۷۷ھ)کے دور میں رکھا گیا یہ احاطہ دومنزلہ مسجد، دفتر اہتمام، دفتر تعلیمات، مہمان خانہ، مرکز تبلیغ بشمول درج ۂحفظ وتجوید کی درسگاہوں کے تقریباً پچاس کمروں پر مشتمل ہے، شعبہ حفظ وتجوید میں داخل طلبہ کی رہائش کا مکمل انتظام اسی عمارت میں ہے، اسی احاطہ میں جامعہ کا مطبخ اور کتب خانہ بھی ہے جس کو اب مدرسہ عائشہ للبنات کی نئی بلڈنگ سے جوڑ کر لڑکیوں کیلئے بطور کمپیوٹر سینٹر وسلائی سینٹر استعمال کیا جارہا ہے۔
حسینی مسجد وحجرۂ بان�ئجامعہ
یہ مسجد بانئ جامعہ حضرت حافظ صاحبؒ کے زمانہ کی یادگار ہے اب سے سو برس قبل اس گلستانِ علم ومعرفت کی تاسیس یہیں سے ہوئی، اسی کے متصل آپؒ کا حجرہ جس کو بیچ کی دیوار نکال کر نئی چھت ڈالنے کے ساتھ ہی مزید وسعت دیکر درجۂ حفظ کی درسگاہ قائم کردی گئی ہے، اسی زمانہ کی یاد دلاتا ہے، آج اس کے اطراف میں عمارات کا طویل سلسلہ ہے جن میں درجاتِ حفظ وقرأت کی درسگاہیں، قدیم دارالحدیث، دفتر اہتمام، دفتر تعلیمات،دفتر محاسبی، مکتبہ جامعہ، مہمانخانہ اور اساتذہ کے رہائشی کمرے ہیں، جن کو کسی وسیع خطۂ ارض پر پھیلایا جائے توبڑے جنگل کو منگل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
مولانا عبداللہ مغیثی کمپلیکس
اسی مسجد سے ملحقہ کچھ حجرے اور نودرہ کے نام سے موسوم مسجد کے عین سامنے والی قدیم عمارت جو بالکل بوسیدہ اور قریب الانہدام ہوچکی تھی بصورت مجبوری دو برس قبل بالکل نیچے سے اس کی دوبارہ تعمیر کا اللہ کے بھروسہ فیصلہ کیا گیا، جس کی تعمیر میں بفضل ایزدی جامعہ کے معاونین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، الحمدللہ اب یہ عمارت نیچے وضوخانہ وطہارت خانہ، دوسری منزل پر مطبخ ومکتبہ سمیت ۶؍کمروں اور بالائی منزل تین کمروں پر مشتمل ’’مولانا عبداللہ مغیثی کمپلیکس‘‘ کے نام سے بنکر تیار ہوچکی ہے، اسی کمپلیکس میں حسینی مسجد کا خوبصورت صدر دروازہ اور بالائی منزل پر حسین وجمیل گنبد ہے جس کو پانی کی ٹنکی کیلئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔
مدرسہ عائشۃ للبنات:
احاطہ دارقدیم کے قریب ہی بستی میں دومنزلہ عمارت تعمیر کی گئی ہے جس میں (۴۰۰) مقامی بچیاں زیر تعلیم ہیں، لیکن طالبات کی روز افزوں بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہ عمارت تنگ ہوکر رہ گئی ہے، اس کی خشت اول حضرت مہتمم صاحب نے اپنے ہاتھوں رکھی تھی۔
جونیئر ہائی اسکول:
جامعہ کے تحت چلنے کا اس اسکول کو بھی شرف حاصل ہے۔ پرائمری کی تعلیم تو ۱۹۶۰ء سے برابر چل رہی تھی لیکن اسکو منظم کرنے اور بورڈ سے متعلق کرنیکا سنہری قدم ۱۹۹۱ء میں اٹھایا گیا اور یہ اسکول جونیئر ہائی اسکول کی منظوری سے سرفراز ہوا۔ الحمدللہ اس اسکول کا ریکارڈ گذشتہ کئی برسوں سے لائق ستائش چل رہا ہے اور اس کے نتائج امتحان برابر امتیازی آرہے ہیں۔ اس اسکول سے فارغ طلباء جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، مسلم یونیورسٹی علی گڈھودیگر کالجز ویونیورسٹیز میں داخل ہوئے ہیں، آج علاقہ بھر میں بظاہر اس سے مستحکم اور بہتر ادارہ ہماری نظر میں نہیں آرہا ہے۔
شعبۂ اہتمام:
جامعہ کی تعلیمی وتعمیری سرگرمیوں اور جملہ امور انتظامیہ کی دیکھ بھال داخلی وخارجی شؤن کی نگرانی حضرات اساتذہ وملازمین کاعزل ونصب اس شعبہ کے مسؤل کا فرض ہے۔ ماشاء اللہ اس منصب پر ۱۹۶۰ء سے الحاج حکیم مولانا محمدعبداللہ مغیثی دامت برکاتہم فائز ہیں
شعبۂ تعلیمات
جامعہ کا اہم ترین شعبہ ہے، جس کی ذمہ داری جملہ تعلیمی امور کی دیکھ بھال امتحانات کرانا، نیز اسباق ودرجات کی ترتیب وتقسیم کے ساتھ اس شعبہ کا فرض شہادات واسناد ، تصدیق نامے اور مارکس شیٹ وغیرہ کی تیاری اور وظائف طلبہ کی تقسیم بھی ہے۔
شعبۂ تصنیف وتالیف:
جامعہ ہذا نے جہاں تعلیمی وتعمیری ، محیرالعقول وحیرت انگیز ترقیاں کی ہیں، وہیں تصنیفی وتالیفی میدانوں میں بھی قابل قدر پیش رفت کی ہے۔ مندرجہ ذیل کتب جامعہ کے ’’مکتبہ گلزارِ حسینیہ‘‘ سے شائع ہوکر مقبول خاص وعام ہوچکی ہیں:
*خطبات مغیثی جلداول (اردو) *خطبات مغیثی جلداول (انگریزی) *خطبات مغیثی جلددوم *سوانح حافظ محمدحسینؒ (بان�ئ جامعہ ہذا) *خطباتِ بنگلور *مقالات مغیثی *مجلس ذکر *حقیقت بیعت *نماز مترجم (اردو) *نماز مترجم (ہندی) *احسن التجوید *قربانی کا شرعی نظام *میت کا شرعی نظام *احکام میت (اردو) *احکام میت (ہندی) *اسلامک بیسک ریڈر، ۱،۲،۳، *حسینی دوامی جنتری *حسینی بغدادی قاعدہ۔
شعبۂ نشرواشاعت:
جامعہ کی جانب سے ماہنامہ ’’یادگارِ اسلاف‘‘ کی اشاعت،نیز مختلف موقعوں پر پمفلٹ شائع کرنا، بینرس بنوانا، اشتہارات ودعوت نامے تیار کرنا، اصلاحی لیٹریچر، رسیدبکوں کی طباعت خطوط وغیرہ کی ترسیل اور ان کے جوابات دینا، جامعہ اوراس کے پروگراموں کے تعلق سے اخبارات ومیڈیا کی رہنمائی اسی شعبہ کی ذمہ داری ہے۔
شعبۂ انجمن بزم حسینی:
ذمہ داران جامعہ نے تحریر وتقریر کی مشق کیلئے اس شعبہ کو قائم کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ طلباء عزیز اپنی تحریری وتقریری صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں، اس شعبہ کی نگرانی اساتذۂ درس نظامی کے سپرد ہے، اس شعبہ کی چھ الگ الگ انجمنیں قائم ہیں جن کی نگرانی ورہنمائی کیلئے اساتذہ کومتعین کیا گیا ہے۔ سال کے اول وآخر میں اسکا مشترکہ افتتاحی واختتامی اجلاس حضرت مہتمم صاحب ودیگر اساتذہ وذمہ داران کی نگرانی میں ہوتا ہے۔اسی شعبہ کے تحت ماہنامہ ’’الحسینی‘‘ ، ’’الرشید‘‘، ’’المظفر‘‘ (دیواری پرچے) اردو میں نکلتے ہیں تاکہ طلباء تحریری مشق جاری رکھ کر اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے طریقہ سے آراستہ ہوں اور دین اسلام کے اچھے داعی وترجمان بن سکیں۔
شعبۂ تبلیغ واصلاح:
تعلیمات دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کو عام کرنے کیلئے اس شعبہ کا قیام عمل میں آیا ہے، اسی شعبہ کے زیر نگرانی ہر جمعرات کو ایک یوم کیلئے بچوں کی جماعتیں اساتذہ کی نگرانی میں قرب وجوار کے مواضعات میں نکلتی ہیں جس سے طلباء اور علاقہ والونکو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ امسال جامعہ سے طلبہ کی ۴۸؍جماعتیں گئیں جبکہ ۲۱؍جماعتوں کو امیر فراہم کئے گئے، سالانہ امتحانات کی تعطیل میں طلبہ جامعہ پر مشتمل چلہ کی ۹؍جماعتیں نکلیں اور فارغ ہونیوالے ۱۳؍طلبہ ایک سال کیلئے راہِ خدا میں نکل چکے ہیں۔
لائبریری (کتبخانہ)
یہ شعبہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے یہ ہی مدارس وجامعات کی اصل روح ہے جس کے بغیر تعلیمی ترقی دشوارہی نہیں ناممکن ہے، لائبریری کی جانب سے برائے استفادہ اساتذہ وطلبہ کو ماہ شوال میں عاریۃً کتابیں دیجاتی ہیں اور ماہ شعبان میں واپس لے لی جاتی ہیں، جامعہ کی لائبریری میں مختلف علوم وفنون کی تقریباً ۳۳۴۳۰(تینتیس ہزار چار سو تیس) کتابیں موجود ہیں۔
شعبۂ تنظیم وترقی
تعلیمی وتعمیری جملہ منصوبوں کی تکمیل مالیات کے بغیر محال ہی نہیں ناممکن ہے، لہذا فراہمی مالیات اورغلہ وغیرہ کی وصولیابی کیلئے نظم بنانا، ماہ رمضان ودیگر اوقات میں سفراء حضرات کو روانہ کرنا اس شعبہ کی ذمہ داری ہے کسی بھی مدرسہ یاجامعہ کی ترقی کیلئے یہ شعبہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔
مطبخ ومال گودام:
بیرونی طلبہ اور باہر سے تشریف لانے والے مہمانانِ کرام کے کھانے وناشتے کا انتظام کرنا اسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ اشیاء ماکولات کا حسب ضرورت اسٹاک کرنا بھی اسی سے متعلق ہے۔
دارالاقامہ:
جامعہ میں بیرونی طلباء کی رہائش گاہوں کا انتظام طلباء کی تربیت اورنگرانی، موسم سرما میں لحافوں کی تقسیم، مذاکرہ ومطالعہ کی دیکھ بھال وغیرہ اس شعبہ کے فرائض میں ہے، جس کو دوفعال اساتذہ کی خدمت حاصل ہے۔ دارالاقامہ کی مستقل عمارت ہے جس میں حتی المقدور طلباء کیلئے سہولیات فراہم کی گئیں ہیں، ایک طالب علم کیلئے دو الماری اور ایک تخت (بیڈ) کا انتظام منجانب جامعہ کیا گیا ہے۔
مہمان خانہ :
ملک بھر سے آنے والے مہمانانِ عظام، حضرات مفکرین، دانشوران قوم، نیز علماء کرام کے قیام وطعام کیلئے مہمان خانہ کا ہونا ضروری ہے، مہمان خانہ کے جملہ امور کی انجام دہی کیلئے دو آدمی مامور ہیں۔
برقیات:
جامعہ میں جنریٹر، ٹیوب ویل، چکی اور پورے کمپلکس میں پانی بجلی کی سپلائی کا نظم ہے، جسمیں دو ماہر الیکٹریشن مصروف کار ہیں۔
محاسبی:
شعبہائے جامعہ میں آمد وخرچ کا حساب بجلی، ٹیلیفون بلوں کی ادائیگی اور سالانہ آمد وخرچ کا گوشوارہ بنانا اسکا فرض اولیں ہے
النادی العربی
عربی زبان میں تحریری وتقریری مشق کیلئے اس شعبہ کا قیام عمل میں آیا ہے اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ عربی زبان میں اپنے مافی الضمیرکو ادا کرتے ہیں، نیز النادی العربی کی جانب سے ایک ماہانہ پرچہ ’’الیقظۃ‘‘ اور دوسرا پندرہ روزہ ’’النہضہ‘‘ نکلتاہے جس کی دیکھ بھال ونگرانی تین اساتذہ کے سپرد ہے۔
کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ:
کسی بھی صاحب عقل سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ آج کا دور انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، طرح طرح کے محیرالعقول اکتشافات ہورہے ہیں۔ کہیں انسان ہوا میں اڑا چلا جارہا ہے، تو کہیں اس کی رسائی چاند تک ہوچکی ہے، آج ٹیکنالوجی ایک ضرورت بن کر رہ گئی ہے، اسیغرض سے جامعہ نے کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہے جس کے ذریعہ نونہالانِ امت کو کمپیوٹر کی تعلیم سے آراستہ کیا جاسکے اور وہ طلبہ جو ایک دینی ادارہ سے نکل کر قوم کے بیچ جارہے ہیں، احساس کمتری کا شکار نہ ہوں، اس شعبہ میں ایک انچارج ایک سپروائزر، دو کمپیوٹر آپریٹرز، دو اردو انگلش اساتذہ اور ایک پیون کی خدمات دستیاب ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے، طلبہ کیلئے آمد ورفت میں سہولت کے پیش نظر ۲۰۰۵ء میں اس کی ایک شاخ جامعہ ہی کی زیر نگرانی مدرسہ ریاض العلوم شاہجہانپور میں قائم کی گئی جو بحمداللہ کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔
فنکشنل عربی کورس:
وزارتِ ترقی برائے انسانی وسائل کے اہم شعبہ ’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘ حکومت ہند نے چھ سال قبل فنکشنل عربی کورس کے نام جدید عربی کا ایک قیمتی کورس فارغین درس نظامی واعلیٰ درجات کے طلبہ کیلئے شروع کیا کورس کی اہمیت کے پیش نظر گذشتہ پانچ سال سے جامعہ نے بھی اس کورس کو شروع کرایا جس میں فی الحال ۵۴؍طلبہ داخل ہیں۔
ٹیلرنگ سینٹر:
صنعت وحرفت کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے جامعہ میں جن شعبوں کا قیام عمل میں آیا ان میں شعبہ خیاطی بھی ایک اہم شعبہ ہے جس میں تمام ضروری ملبوسات کی کٹنگ و سلائی سکھانے کا معقول نظم ہے، اس کورس کی مدت دو سال ہے، فراغت کے بعد جامعہ کی طرف سے طلبہ کو ڈپلومہ دیا جاتا ہے۔
شعبۂ دارالشفاء:
جامعہ کے جدید شعبوں میں ایک اہم شعبہ ’’دارالشفاء‘‘ ہے، تعلیمی اوقات کی بچت اور بروقت ضروری علاج معالجہ کیلئے یہ شعبہ رفاہی طور پر کام کررہا ہے جو دومستقل ڈاکٹر اور ایک معاون کی نگرانی میں خدمت خلق کے طور پر باری باری بستی کے ۵؍ڈاکٹرس کے ذریعہ یومیہ تقریباً ۳۰؍مریضوں کے ابتدائی علاج معالجہ کے علاوہ ایمرجنسی کیسس کیلئے ماہرین اور نرسنگ ہوم وغیرہ کی خدمات مہیا کراتا ہے۔
مدرسہ عاشہ للبنات:
اس شعبہ سے متعلق حضرات اساتذۂ کرام اپنی اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ بچیوں کا مستقبل سنوار کر انکی نشوو نما کرتے ہیں اور ان میں دینی وعصری تعلیم کے ساتھ قومی وملکی محبت کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ شعبہ بڑی لگن، محنت خلوص اور دلچسپی سے تقریباً ۱۹؍سال سے تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے ہیں، صلاحیت کے مطابق اساتذہ کو ہی پڑھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ جس سے طالبات کومضمون سمجھنے میں زیادہ دشواری نہ آئے، جس کے نتیجہ میں ابتدائی درجات میں بچیوں کی تعداد سیکڑوں سے زائد ہے، طالبات وقت مقررہ پر حاضر ہوکر تعلیم میں مصروف ہوجاتی ہیں۔طالبات کی تعلیم کا نظم طلبہ سے الگ جامعہ کی دوسری عمارت مدرسہ ’’عائشہ للبنات‘‘ میں کیا گیا ہے جہاں معمر معلمین اور معلمات تعلیمی خدمت انجام دے رہے ہیں، ۶۰۰؍سو سے زائد طالبات کی تعلیم کا نظم جامعہ کے تحت محکمۂ تعلیم حکومت یوپی کے مطابق کیا جاتا ہے، طالبات کو جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے وہیں، عصری تعلیم ہندی، انگریزی، حساب، سائنس، سماج ، ہوم سائنس، کمپیوٹر کے ساتھ سلائی، کڑھائی وغیرہ فن کاری کی بھی عملی طور پر مشق کرائی جاتی ہے، طالبات کو جہاں نیلا جمپر سفید شلوار اور سفید دوپٹہ(ڈریس) پہننا ضروری ہے وہیں بڑی طالبات کو اسکول کی آمد ورفت کے لئے پردہ بھی لازمی ہے۔