بانی جامعہ وقیام جامعہ
بانئ جامعہ حضرت حافظ محمد حسینؒ اپنے وقت کے ولی کامل مستجاب الدعوات اور خدا رسیدہ بزرگ تھے، آپ کو قرآنِ کریم سے گہرا شغف تھا، اکابر اہل اللہ اور اپنے زمانہ کے شیوخ طریقت سے گہری عقیدت وتعلق رکھتے تھے، تمام معروف بزرگانِ دین کے یہاں آپکی بے پناہ قدر ومنزلت تھی، خاص طور سے شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ ، حکیم الامت حضرت تھانویؒ ، بان�ئ جماعت تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس ؒ آپ کا بے حد احترام کرتے تھے،، قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے بیعت وارشاد کا تعلق تھا، حضرت کے ایماء پر ہی آپ نے جامعہ کی بنیاد ڈالی۔
ایک صدی قبل جب اجراڑہ واطراف اور قرب وجوار کا پورا علاقہ بدعات وخرافات اور ضلالت وگمراہی کے گہرے غار میں ڈوبا ہوا تھا، رسومات کی قباحت ذہنوں سے اوجھل ہوچکی تھی، دور دور تک روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آتی تھی، ایسے ناگفتہ بہ حالات میں حضرت حافظ صاحبؒ کو اس علاقہ کی فکر دامن گیر ہوئی بعض مقامی اہل دل کے رابطہ نے ارادہ کو تقویت بخشی اور آپنے یہاں آکر دینی تعلیم کیلئے مکتب قائم فرمایا کچھ سالوں تک متفرق مقامات پر بچونکی تعلیم اور بڑوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے رکھا، اصحاب بصیرت نے اس عمل خیر اور اس کے دور رس اثرات کو بھانپ لیا گویا اس طرح حافظ صاحب کو چند مقامی حضرات کی حمایت حاصل ہوئی تو مستقل مدرسہ اور تعمیر کا عزم لیکر اپنے پیر ومرشد قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ضعف ونقاہت اور کبر سنی کے باعث حضرت تشریف تو نہ لاسکے البتہ ایک اینٹ پڑھ کر دعاؤں کے ساتھ حافظ صاحب کے حوالہ کردی جس کے ذریعہ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ میں باقاعدہ مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی، جس کا ایک محرک اجراڑہ کے معززین کا وفد بنا۔
مقامی مقبولیت اور عوامی اعانت سے یہ مدرسہ بتدریج ترقی کرتا رہا، فضل خداوندی اس کے شامل حال رہا، حافظ صاحب کی آہِ سحر گاہی اور مخلصانہ مساعی کے ساتھ بزرگانِ دین کی دعاؤں ہی کا اثر ہے کہ آج یہ مکتب نہ صرف مدرسہ نہ صرف جامعہ بلکہ شمالی ہندوستان کا مرکزی دینی ادارہ، علم وروحانیتمۂ
Product Product